کالم

ہماری خاک سے خوشبو وطن کی آئے گی …یشفین جمال

دسمبر2014ء کے دن پشاور کینٹ کے انتہائی حساس علاقہ وارسک روڈ پر واقع آرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں نے قلم و کتاب سے دوستی رکھنے والے پھول جیسے معصوم بچوں کو خون میں نہلا دیا۔ بزدل دہشت گردوں کے دلوں پر معصوم بچوں کی آہ وبکا اور چیخ و پکار نے بھی کچھ اثر نہ کیا۔ دہشت گردوں کی بربریت اور حیوانیت دیکھ کر کوئی ذی روح اپنے آنسوئوں پر قابو نہ رکھ سکا۔ وطن پر گزرنے والی لرزہ خیز قیامت کو ایک سال پورا ہونے کو ہے مگر دل ایسے بوجھل ہیں جیسے یہ کل کی بات ہو۔ وہ پھول جنہیں دشمن نے اس قوم کے حوصلے پست کرنے کے لیے روندنے کی کوشش کی‘ ان کی خوشبو آج بھی پُر عزم قوم کی صورت میں وطن عزیز کی فضائوں کو مہکا رہی ہے۔ 16دسمبر2014ء سے پہلے قوم ایک تذبذب کا شکار تھی۔ ملک دشمنوں کے خلاف ہونے والے ضرب عضب آپریشن کو اہمیت تو حاصل تھی لیکن کہیں نہ کہیں اس بات کا اظہار کیا جاتا تھا کہ شاید بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ مگر بات چیت ان سے کی جاتی ہے جو اس پر آمادہ ہوں۔ سلام ہے ان ننھے فرشتوں کو‘جن کی بے مثال قربانی نے اس قوم کو دشمنوں کے خلاف یکجا کر دیا اور سلام ہے اس قوم کی بہادر مائوں کو جو اس ملک کی بقاء کے لیے اولاد جیسی نعمت کے چھن جانے جیسے دکھ کو برداشت کرکے مشکل حالات کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں بلکہ وطن عزیز کے لئے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں ۔
آپریشن ضرب عضب کے آغاز سے ہی دشمن کی جانب سے ردعمل کا خطرہ موجود تھا ؛تاہم اسلام کا نام لینے والے ایسی بزدلانہ کارروائی بھی کر سکتے ہیں ،اس کا کسی کو گمان بھی نہ تھا۔ دشمن کی اس وحشیانہ کارروائی کے بعد ایک جامع قومی ایکشن پلان ترتیب دیا گیا تاکہ کراچی میں ہونے والے آپریشن اور وزیرستان میں ہونے والی عسکری کارروائی کے ساتھ ساتھ ملک کے باقی حصوں میں بھی کارروائیاں کی جائیں۔ اس پلان کے مختلف مقاصد ہیں جن میں دہشت گردوں کے خلاف عسکری کارروائیوں کے علاوہ معاشرتی اور قانونی سطح پر مسائل کا حل ہے ،تاکہ اس سوچ کو بھی ختم کیا جا سکے جو انسان کو ایسی درندگی پر مجبور کرتی اور عدم برداشت کا درس دیتی ہے۔ ایک سال کے دوران 16دسمبر کے واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو تختۂ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔ کالعدم تنظیموں کے حوالے سے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں ،مدارس کی رجسٹریشن پرکام ہو رہا ہے ، اشتعال انگیز تقاریر پر نہ صرف پابندی عائد کی گئی بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں،لائوڈ سپیکر کے غلط استعمال کی روک تھام کے لئے بھی احکامات جاری کیے گئے ہیں اور افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کے حوالے سے بھی بہت کام ہوا ہے مگر ابھی بھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔
کراچی اور وزیرستان میں عسکری کارروائیوں اور دیگر اقدامات سے امن و امان کی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے۔ مکمل امن کے لئے انصاف کی فوری فراہمی کو یقینی بنانا ہو گا۔ جب تک نظام ِعدل اتنا موثر نہیں ہو جاتا کہ دہشت گردوں کو بلا خوف و خطر سزائیں سنا کر انصاف کرے تب تک مقاصد حاصل نہیں ہوں گے اور کئے جانے والے اقدامات کے طویل المدتی اثرات نہیں ہوں گے ۔سب سے اہم یہ ہے کہ ہمیں اپنے تعلیمی نصاب پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے جو ہمارے سکولوں اور مدارس میں پڑھایا جاتا ہے۔اگرہم نے ننھے ذہنوں کو برداشت کی تعلیم نہ دی تو ہماری آنے والی نسلیں بھی اس سوچ کے ساتھ پروان چڑھیں گی جو اس ملک کے مستقبل کے لیے خطرناک ہو گا۔ مدارس کی رجسٹریشن وغیرہ کے مسئلے پر ابھی بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے اور جو مدارس اصول و ضوابط سے ہٹ کر چل رہے ہیں‘ انہیں سسٹم کے اند رلے کر آنا ہو گا۔ ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کی بات کی جاتی ہے اور دوسری جانب یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے کارندے مختلف ناموں سے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ابھی بھی کہیں نہ کہیں کوتاہی ہو رہی ہے جسے دور کرنا ہو گا‘ ورنہ یہ عناصر گلی محلے کی سیاست کا حصہ بن کر اس معاشرے کے لیے زہر قاتل ثابت ہوں گے ۔ نیکٹا کو فوری طور پر فعال کیا جانا چاہیے جس کی مکمل ذمہ داری وفاقی حکومت پر ہے،اس سارے عمل میںانتہائی اہم بات یہ بھی ہے کہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کی زیادہ ذمہ داری صوبوں پر عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ امن و امان بنیادی طور پر صوبائی مسئلہ ہے مگر بد قسمتی سے اس مسئلے میں صوبے یا تو ایک دوسرے پر یا وفاق پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس ملک میں ہر سیاسی جماعت ،ہر طبقے اور ہر ادارے کو اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان معاملات کو دیکھنا ہو گا اور اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔
اچھی خبر یہ ہے کہ ضربِ عضب آپریشن کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کے بڑے حصے کو دہشت گردوں سے پاک کر لیا گیا ہے۔یہ آپریشن انتہائی کامیابی سے آگے بھی بڑھ رہا ہے لیکن علاقائی سطح پر کچھ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ دہشت گردوں کی بہت بڑی تعداد‘ جس میں ان کی قیادت بھی شامل ہے‘ بارڈر کے اس پار افغان سرزمین کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ وہ سرحد پار کر کے دراندازی کے لئے پاکستان نہ آ سکیں‘ ہمیں افغانستان کے تعاون کی ضرورت ہے ۔پاکستان مسلسل اس عزم کا اعادہ کر رہا ہے کہ وہ افغانستان کے لیے افغان عوام کے پسند کے حل کی حمایت کرتا ہے اور اس کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا جو فقدان ہے ‘اسے سفارتی سطح پر دور کرنا ہو گا، انٹیلی جنس شیئرنگ کو بہتر بنانے پر کام کرنا ہو گا اور انہیں یہ باور کرانا ہو گا کہ دونوں ممالک کے آپس میں تعاون میں ہی دونوں ممالک کی بقاء اور خطے میں امن کا راز پنہاں ہے۔
ایک سال گزر جانے کے بعد یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں‘ ہم نے کیا کیا ہے اور کیا کرنا باقی ہے۔ جو بہتری آ رہی ہے اسے سراہنے کے ساتھ ساتھ جہاں خامیاں رہ گئی ہیںیا کوتاہیاں ہوئیں ‘انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کوئی ہمارے پھولوں کو مسلنے کے بارے میں سوچنے کی بھی ہمت نہ کرے ۔ انشاء اللہ پاک فوج کے جوانوں اور اے پی ایس کے طلبا اور اساتذہ کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
ہماری خاک سے خوشبو وطن کی آئے گی
ہمارا خون اس مٹی کے رنگ میں شامل ہے

  • Print