یادیں 65

معرکہ سیالکوٹ اورچونڈہ حوالدار نصرت الہیٰ کے قلم سے

  • جب دشمن نے للکارا عبدالرحمن صدیقی کی تحریر

    بیاربیٹ میں شکست کے بعد ہندوستان نے صحرائے کچھ کے تنازعہ کر طول دے کر اسے مکمل جنگ کی صورت میں تبدیل کرنے کی پاکستان کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ چنانچہ اس سلسلہ میں ہندوستان کے وزیر اعظم نے ہندوستانی پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا۔”اگر پاکستان معقولیت سے کام لینے سے انکار کر تا […]

  • ہوائی فوج…… مبصر کے قلم سے

    ہوائی فوج مبصر کے قلم سے وقت کا تیز ردقاصد اپنے پیچھے کچھ ایسی یاد یں ‘ کچھ ایسی کہانیاں چھوڑ جاتاہے جو آنے والی نسلوں کے لئے ایک نئی تاریخ کا عنوان بن جاتی ہیں۔ پچھلے مہینے جب ہماری چھوٹی سی ‘مگر حوصلہ مند ائیر فورس نے اپنے سے چھ گنا بڑے دشمن کو […]

  • خود شناسی سب سے بڑی فتح……سید وقار عظیم کے قلم سے

    وقت کی چال میں کچھ دیوانوں اور مجذوبوں کی سی کیفیت ہے کبھی طوفانوں سے زیادہ تیز اور کبھی چیونٹی سے زیادہ سست اور پھر کبھی بے جانوں کی طرح بے حس و حرکت، خاموش، اٹل۔ یہ رفتار کبھی تو برسوں کو لمحے بنا دیتی ہے اور کبھی لمحوں میں برسوں کی برکت اور کشادگی […]

  • معرکہ راجستھان عبدالرحمن صدیقی کے قلم سے

    ریگستان کے مزاج میں ایک تنوع اور رنگارنگی ہوتی ہے۔ صبحیں کہر آلود، سہ پہر تُرش اور گھٹی گھٹی سی اور راتیں خنک اور شبنم آلود۔ جھٹپٹاہوتے ہی فضا پراسرار خامشی میں ڈھل جاتی ہے۔ کراںتاکراں مہیب سناٹا پھیل جاتاہے۔ ریگزار کی ان وسعتوں میں ایک ننھی سی چڑیا بھی دکھائی نہیں دیتی اور جب […]

  • کوئی ستارہ نہیں ابھرتا…. شیخ منظور الہی کے قلم سے

    شیخ منظور الہی ،مجھے آج بھی یا د ہے۔ہر رات یونیورسٹی کلاک سے دس بجنے کی صدا گونجتی تھی جسے میں نیو ہاسٹل کی چھت سے سنتاتھا، جیسے گونج کی لہریں گہرائیوں میں اُتر رہی ہوں جیسے ان میں صدیوں کا گداز پنہاں ہو، اس گجر میں ایک خاموش عظمت تھی ، وہ گونج دار […]

  • ہوائی فوج پینسٹھ کی جنگ میں

    ہوائی فوج پینسٹھ کی جنگ میں وقت کا تیز ردقاصد اپنے پیچھے کچھ ایسی یاد یں ‘ کچھ ایسی کہانیاں چھوڑ جاتاہے جو آنے والی نسلوں کے لئے ایک نئی تاریخ کا عنوان بن جاتی ہیں۔ پچھلے مہینے جب ہماری چھوٹی سی ‘مگر حوصلہ مند ائیر فورس نے اپنے سے چھ گنا بڑے دشمن کو […]

  • پینسٹھ کی جنگ کے ادبی ہیرو صوفی تبسم…زاہد مسعود

    میں ان خوش قسمت بچوں میں سے نہیں ہوں جو صوفی تبسم کو ٹوٹ بٹوٹ کے حوالے سے جانتے پہچانتے ہیں تاہم میں نے ان کا نام بچپن میں ہی سن لیا تھا۔ میرے ایک تایا تھے جو 1934 میں گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے بلکہ سٹوڈنٹ یونین کے سیکرٹری بھی تھے۔ ہوا […]

  • 1
  • 2